بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا
بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا
بکھرا بھی اس طرح کہ سمیٹا نہیں گیا
ایڑی پہ ناچتی رہی آزادیوں کی دھوپ
لیکن ہمارے سر سے اندھیرا نہیں گیا
سینا پٹخ رہے تھے مرے گلستاں کے پیڑ
لیکن چمن سے کوئی پرندہ نہیں گیا
آنکھوں کی پتلیاں بھی دھماکے میں اڑ گئیں
منظر وہ آخری تھا کہ دیکھا نہیں گیا
ملتا نہیں ہے ملک میں ڈھونڈیں اگر کہیں
ایسا کوئی بشر جسے لوٹا نہیں گیا
بینائیوں کو کھا گئیں دیمک کی ٹولیاں
آنکھوں سے آج بھی ترا چہرا نہیں گیا
تتلی نے پنکھ سونپ دئیے باغبان کو
پھولوں کا حال اس سے بھی دیکھا نہیں گیا
ماؤں نے اپنے لال کرائے پے دے دئیے
اس سے بھی اس وطن کا کرایہ نہیں گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.