Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا

انعم ظامی

بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا

انعم ظامی

MORE BYانعم ظامی

    بکھراؤ اپنے شہر کا دیکھا نہیں گیا

    بکھرا بھی اس طرح کہ سمیٹا نہیں گیا

    ایڑی پہ ناچتی رہی آزادیوں کی دھوپ

    لیکن ہمارے سر سے اندھیرا نہیں گیا

    سینا پٹخ رہے تھے مرے گلستاں کے پیڑ

    لیکن چمن سے کوئی پرندہ نہیں گیا

    آنکھوں کی پتلیاں بھی دھماکے میں اڑ گئیں

    منظر وہ آخری تھا کہ دیکھا نہیں گیا

    ملتا نہیں ہے ملک میں ڈھونڈیں اگر کہیں

    ایسا کوئی بشر جسے لوٹا نہیں گیا

    بینائیوں کو کھا گئیں دیمک کی ٹولیاں

    آنکھوں سے آج بھی ترا چہرا نہیں گیا

    تتلی نے پنکھ سونپ دئیے باغبان کو

    پھولوں کا حال اس سے بھی دیکھا نہیں گیا

    ماؤں نے اپنے لال کرائے پے دے دئیے

    اس سے بھی اس وطن کا کرایہ نہیں گیا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے