آسماں بجلیاں گرا دیتا
آسماں بجلیاں گرا دیتا
میں اگر دل سے بد دعا دیتا
ساری دنیا ہی راکھ ہو جاتی
وہ جو پردے سبھی اٹھا دیتا
شکر ہے ہم بھی پیڑ رکھتے ہیں
ورنہ موسم ہمیں جلا دیتا
میں بھی سب کچھ خرید سکتا تھا
کھوٹے سکے اگر چلا دیتا
زلف برہم سنوارتا تو کوئی
خود کو میں آئنہ بنا دیتا
عزم میرا پہاڑ جیسا تھا
ورنہ دریا مجھے بہا دیتا
ہم بھی مدت کے بک چکے ہوتے
کوئی بولی اگر لگا دیتا
ظلم کی ایک ہی ادا کیوں ہے
درد ہر روز اک نیا دیتا
تم اگر دل پہ ہاتھ رکھ دیتے
دل سے آذرؔ تمہیں دعا دیتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.