خورشید سے بدن کی ضیا میں وضو کرے
خورشید سے بدن کی ضیا میں وضو کرے
دل چاہتا ہے دل سے کوئی گفتگو کرے
زلفوں کی بدلیوں کو ہٹا کر وہ ایک بار
اب چاند جیسا چہرہ مرے رو بہ رو کرے
اس نے حسیں لبوں پہ اگا لی ہے تشنگی
کوئی حسین خواب بھی دل میں نمو کرے
گمنامیوں میں سوچتا رہتا ہوں میں یہی
اس بار سرخ رو مجھے میرا عدو کرے
کچھ اور بھی بڑھے مرا رتبہ مرے رقیب
میرے جگر کے زخم اگر تو رفو کرے
تیرا گناہ گار ہے ایسی سزا سنا
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
جس آدمی کی عمر قضا کے قریب ہو
وہ آرزو کرے نہ کوئی جستجو کرے
آتشؔ تمام زندگی پیتے گزار دی
اس عمر میں نہ کوئی ہمیں بے سبو کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.