محبتوں کا یہ گلشن بکھرنے والا ہے
محبتوں کا یہ گلشن بکھرنے والا ہے
کسی کی مانگ میں سندور بھرنے والا ہے
میں جا رہا ہوں ترے شہر سے مگر یہ دل
تمام عمر یہیں پر ٹھہرنے والا ہے
وہ اک چراغ جسے میں نے آفتاب کیا
سنا ہے میرے مقابل اترنے والا ہے
اسے بتاؤ کہ اڑتے ہیں حوصلوں سے ہم
جو کہہ رہا ہے مرے پر کترنے والا ہے
مجھے یہ ڈر ہے تجھے بھول ہی نہ جاؤں میں
بس ایک زخم بچا ہے جو بھرنے والا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.