خطاب کیا دوں انہیں خد و خال پوچھتے ہیں
خطاب کیا دوں انہیں خد و خال پوچھتے ہیں
نمک چھڑک کے وہ زخموں پہ حال پوچھتے ہیں
گلہ تو خیر رہے گا مگر غنیمت ہے
وہ مہربان ہمیں خال خال پوچھتے ہیں
جواب کیا لکھوں ان کو تری جدائی کا
تیرے فراق کے لمحے سوال پوچھتے ہیں
گلہ کیا جو تغافل کا تو یہ فرمایا
کہ بے ہنر کو کہیں با کمال پوچھتے ہیں
لہولہان ہیں سب خواب ان سے کیا کہیے
شکستہ قلب سفر کا مآل پوچھتے ہیں
اب اوڑھ لی ہے افق نے ردائے سرخ اظہرؔ
اس ایک شخص کو سارے نڈھال پوچھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.