Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خطاب کیا دوں انہیں خد و خال پوچھتے ہیں

نعمان اظہر مصباحی

خطاب کیا دوں انہیں خد و خال پوچھتے ہیں

نعمان اظہر مصباحی

MORE BYنعمان اظہر مصباحی

    خطاب کیا دوں انہیں خد و خال پوچھتے ہیں

    نمک چھڑک کے وہ زخموں پہ حال پوچھتے ہیں

    گلہ تو خیر رہے گا مگر غنیمت ہے

    وہ مہربان ہمیں خال خال پوچھتے ہیں

    جواب کیا لکھوں ان کو تری جدائی کا

    تیرے فراق کے لمحے سوال پوچھتے ہیں

    گلہ کیا جو تغافل کا تو یہ فرمایا

    کہ بے ہنر کو کہیں با کمال پوچھتے ہیں

    لہولہان ہیں سب خواب ان سے کیا کہیے

    شکستہ قلب سفر کا مآل پوچھتے ہیں

    اب اوڑھ لی ہے افق نے ردائے سرخ اظہرؔ

    اس ایک شخص کو سارے نڈھال پوچھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے