جو لا ینحل ہے وہ حل کر رہا ہوں
جو لا ینحل ہے وہ حل کر رہا ہوں
طبیعت اپنی بوجھل کر رہا ہوں
میں اپنی عمر نذر خار کر کے
ترے بستر کو مخمل کر رہا ہوں
اس آئینے پہ میرا حق نہیں ہے
میں اپنا عکس اوجھل کر رہا ہوں
تمہاری تشنگی کا قرض دے کر
میں صحراؤں کو جل تھل کر رہا ہوں
در دل پر بہت سی دستکیں ہیں
میں خود ہی در مقفل کر رہا ہوں
ابھی انجام لکھنا ہی نہیں ہے
کہانی کو مسلسل کر رہا ہوں
جو آنسو خشک ہو کر رہ گئے ہیں
انہیں آنکھوں کا کاجل کر رہا ہوں
مرے زخموں کی خوشبو کم نہ ہوگی
لہو کو آج صندل کر رہا ہوں
سکوت شب سے لے کر شور محشر
غموں کو شعر میں حل کر رہا ہوں
پتہ شاید کہیں مل جائے اس کا
ادھورے خط مکمل کر رہا ہوں
محبت عقل پر حاوی ہے اظہرؔ
حواس اپنے معطل کر رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.