Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو لا ینحل ہے وہ حل کر رہا ہوں

نعمان اظہر مصباحی

جو لا ینحل ہے وہ حل کر رہا ہوں

نعمان اظہر مصباحی

MORE BYنعمان اظہر مصباحی

    جو لا ینحل ہے وہ حل کر رہا ہوں

    طبیعت اپنی بوجھل کر رہا ہوں

    میں اپنی عمر نذر خار کر کے

    ترے بستر کو مخمل کر رہا ہوں

    اس آئینے پہ میرا حق نہیں ہے

    میں اپنا عکس اوجھل کر رہا ہوں

    تمہاری تشنگی کا قرض دے کر

    میں صحراؤں کو جل تھل کر رہا ہوں

    در دل پر بہت سی دستکیں ہیں

    میں خود ہی در مقفل کر رہا ہوں

    ابھی انجام لکھنا ہی نہیں ہے

    کہانی کو مسلسل کر رہا ہوں

    جو آنسو خشک ہو کر رہ گئے ہیں

    انہیں آنکھوں کا کاجل کر رہا ہوں

    مرے زخموں کی خوشبو کم نہ ہوگی

    لہو کو آج صندل کر رہا ہوں

    سکوت شب سے لے کر شور محشر

    غموں کو شعر میں حل کر رہا ہوں

    پتہ شاید کہیں مل جائے اس کا

    ادھورے خط مکمل کر رہا ہوں

    محبت عقل پر حاوی ہے اظہرؔ

    حواس اپنے معطل کر رہا ہوں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے