حسن پابند وفا ہو جیسے
حسن پابند وفا ہو جیسے
یہ وفاؤں کا صلہ ہو جیسے
یوں وہ کرتے ہیں کنارا مجھ سے
اس میں میرا ہی بھلا ہو جیسے
طعنہ دیتے ہیں مجھے جینے کا
زندگی میری خطا ہو جیسے
اس طرح آنکھ سے ٹپکا ہے لہو
شاخ سے پھول گرا ہو جیسے
حال دل پوچھتے ہیں یوں مجھ سے
تم مرے دل سے جدا ہو جیسے
دیکھ کر زخم دل افسردہ ہیں
چاک دامان وفا ہو جیسے
اب وفا کو بھی ترستے ہیں رضاؔ
یہی تاثیر دعا ہو جیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.