ہم جو آئینہ دکھائیں تو دکھائیں کس کو
ہم جو آئینہ دکھائیں تو دکھائیں کس کو
بد نما اپنے ہی چہرے نظر آئیں کس کو
کس کو فرصت ہے کہ روداد غم غیر سنے
روز و شب کیسے گزرتے ہیں سنائیں کس کو
سایہ قدموں کے تلے دیکھ کے مسرور ہیں لوگ
سر پہ سورج ہے یہ احساس دلائیں کس کو
وقت شب خوں کے لیے لیس ہے ہتھیاروں سے
شہر کا شہر ہی سویا ہے جگائیں کس کو
ہر کوئی محو تماشائے لب بام ہے اب
وہ جو قدموں میں پڑے ہیں نظر آئیں کس کو
خون ہاتھوں میں لگا ہے سبھی غم خواروں کے
زخم کس کس نے لگائے ہیں بتائیں کس کو
گونج ہوتی ہے بگولا سا نظر آتا ہے
ڈھونڈتی رہتی ہیں صحرا میں ہوائیں کس کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.