ایک مدت سے وہی قلب و جگر دیکھتے ہیں
ایک مدت سے وہی قلب و جگر دیکھتے ہیں
زخم کے واسطے کچھ اور بھی گھر دیکھتے ہیں
آبلے پاؤں کے نظروں میں نہیں ہیں یوں ہی
اسی آئینے میں ہم شوق سفر دیکھتے ہیں
ختم ہوتا ہی نہیں ہم سے کبھی کار ہوس
بارہا ان کو بہ انداز دگر دیکھتے ہیں
جسم پر رنگ خزاں اور نکھر جاتا ہے
نخل جاں پر جو کبھی برگ و ثمر دیکھتے ہیں
ہم سے بڑھ کر بھی کہیں ہوں گے اذیت طلباں
پھونک کر گھر کو تماشائے شرر دیکھتے ہیں
روح بھی وجد میں آتی ہے بدن کی مانند
اس کو رقصندہ مگر اہل نظر دیکھتے ہیں
تن بہ تقدیر ہیں بیٹھے ہوئے ہم گھر پہ ندیمؔ
اور یہی حال زبوں شام و سحر دیکھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.