Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک مدت سے وہی قلب و جگر دیکھتے ہیں

عبداللہ ندیم

ایک مدت سے وہی قلب و جگر دیکھتے ہیں

عبداللہ ندیم

MORE BYعبداللہ ندیم

    ایک مدت سے وہی قلب و جگر دیکھتے ہیں

    زخم کے واسطے کچھ اور بھی گھر دیکھتے ہیں

    آبلے پاؤں کے نظروں میں نہیں ہیں یوں ہی

    اسی آئینے میں ہم شوق سفر دیکھتے ہیں

    ختم ہوتا ہی نہیں ہم سے کبھی کار ہوس

    بارہا ان کو بہ انداز دگر دیکھتے ہیں

    جسم پر رنگ خزاں اور نکھر جاتا ہے

    نخل جاں پر جو کبھی برگ و ثمر دیکھتے ہیں

    ہم سے بڑھ کر بھی کہیں ہوں گے اذیت طلباں

    پھونک کر گھر کو تماشائے شرر دیکھتے ہیں

    روح بھی وجد میں آتی ہے بدن کی مانند

    اس کو رقصندہ مگر اہل نظر دیکھتے ہیں

    تن بہ تقدیر ہیں بیٹھے ہوئے ہم گھر پہ ندیمؔ

    اور یہی حال زبوں شام و سحر دیکھتے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے