باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی دھوکہ دے گیا
باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی دھوکہ دے گیا
میری دنیا لے گیا اور اپنی دنیا دے گیا
درد دل اشک رواں سوز تمنا دے گیا
مہرباں کتنا تھا کوئی مجھ کو کیا کیا دے گیا
کم نہ ہونے دی کبھی اس نے مرے غم کی بہار
جب کبھی یاد آ گیا اک زخم تازہ دے گیا
گردش دوراں سے بڑھ کر ہیں کہیں اس کے ستم
غم جو دنیا دے نہیں سکتی وہ تنہا دے گیا
ظلم بھی کرتا رہا وہ رحم بھی کرتا رہا
دل کو صحرا کر گیا آنکھوں کو دریا دے گیا
چاندنی راتوں میں جس کا منتظر رہتا تھا میں
عمر بھر کا غم خوشی کا ایک لمحہ دے گیا
اب تو کلیوں کے تبسم سے بھی ڈر جاتا ہوں میں
مسکرا کر جو ملا وہ زخم گہرا دے گیا
شاعری باقیؔ مرے زخموں کا مرہم بن گئی
میرا قاتل مجھ کو لفظوں کا سہارا دے گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.