اک دھواں سا اٹھا ہے پانی میں
اک دھواں سا اٹھا ہے پانی میں
ہم نے دل رکھ دیا ہے پانی میں
یار کتنا عجیب ہے آدم
ڈوب کر تیرتا ہے پانی میں
دیکھنا ہے تو خود کے بھیتر دیکھ
عکس کیا دیکھنا ہے پانی میں
خیر مینوں سے پوچھنے والا
جال لے کر گیا ہے پانی میں
کون چھایا ہوا ہے عالم پر
کس کا چہرہ بنا ہے پانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.