سفر پر جو چلے ہیں کر و فر سے
سفر پر جو چلے ہیں کر و فر سے
پلٹ آئیں گے گہرائی کے ڈر سے
میں خوشبو چن رہا ہوں ان کی خاطر
جو ہجرت کر گئے میرے نگر سے
انہیں گولی نے فاقوں سے بچایا
جو ہڑتالی ابھی نکلے تھے گھر سے
گیا پیاسا میں پیاسا لوٹ آیا
یہ بادل آج کتنی دور برسے
پرندوں سے رفاقت کا سلیقہ
سلگتی دھوپ میں سیکھو شجر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.