جب تک غم حبیب سے وابستگی رہی
جب تک غم حبیب سے وابستگی رہی
الفت کی شاہ راہ پہ اک روشنی رہی
رسوائیوں کے ڈر سے کبھی آہ بھی نہ کی
اک آگ تھی جو دل میں ہمارے دبی رہی
پردیس میں بوقت نزع آیا جب بھی ہوش
میری نگاہ خاک وطن ڈھونڈتی رہی
یہ ان سے پوچھئے کہ خوشی کیسی چیز ہے
جن کو نصیب کشمکش زندگی رہی
تعمیر تاج دیکھ کے کہتی ہے ہر نگاہ
صدیاں گزر گئیں یہ نئی کی نئی رہی
اک آشیاں کے جلسے سے اتنا تو ہو گیا
گلشن میں لمحہ بھر تو ظفرؔ روشنی رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.