نہ کوئی حسن آفریں نہ کوئی غم گسار ہے
نہ کوئی حسن آفریں نہ کوئی غم گسار ہے
یہ کس طرف میں آ گیا یہ کون سا دیار ہے
فضا بھی خوش گوار ہے ہوا بھی مشک بار ہے
اتر بھی آؤ آسماں سے کس کا انتظار ہے
اٹھو کہ خواب دیکھنے کا وقت اب نہیں رہا
اٹھو کہ پھول کھل چکے اٹھو کہ اب بہار ہے
یہ کس نے نفرتوں کے بیج بو دیئے زمین میں
کسی کو اب کسی پہ بھی یقیں نہ اعتبار ہے
وہ عمر بھر کی تشنگی یہ شربت طہور ہے
کہاں فراق جاں گسل کہاں وصال یار ہے
تو خاک بے نشاں نہیں خودی سے بے خبر ہے تو
جو خالق جہان ہے تو اس کا شاہکار ہے
کہ جس طرف سے آ رہی ہے رنگ و بوئے نسترن
وہی ہے ہند کی زمیں وہی مرا دیار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.