Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کمائے جاتے ہیں چاہے رسد نہیں ہوتی

محمد مستحسن جامی

کمائے جاتے ہیں چاہے رسد نہیں ہوتی

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    کمائے جاتے ہیں چاہے رسد نہیں ہوتی

    وہ اس لئے کہ محبت میں حد نہیں ہوتی

    میں تیرے وصل کا مقروض یوں نہیں ہوتا

    اگر مجھے یہ ضرورت اشد نہیں ہوتی

    قصور دیکھنے والے کی چشم و ظرف کا ہے

    یہ روشنی تو کبھی نیک و بد نہیں ہوتی

    ہم اہل ہجر کی خالق ضرور سنتا ہے

    ہماری آہ کبھی مسترد نہیں ہوتی

    لطیف جذبوں کو تسلیم جلد کرتے ہیں

    سخن شناس ہیں سو خوئے بد نہیں ہوتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے