کمائے جاتے ہیں چاہے رسد نہیں ہوتی
کمائے جاتے ہیں چاہے رسد نہیں ہوتی
وہ اس لئے کہ محبت میں حد نہیں ہوتی
میں تیرے وصل کا مقروض یوں نہیں ہوتا
اگر مجھے یہ ضرورت اشد نہیں ہوتی
قصور دیکھنے والے کی چشم و ظرف کا ہے
یہ روشنی تو کبھی نیک و بد نہیں ہوتی
ہم اہل ہجر کی خالق ضرور سنتا ہے
ہماری آہ کبھی مسترد نہیں ہوتی
لطیف جذبوں کو تسلیم جلد کرتے ہیں
سخن شناس ہیں سو خوئے بد نہیں ہوتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.