ہے کون آج بزم میں جو جلوہ ہائے طور ہے
ہے کون آج بزم میں جو جلوہ ہائے طور ہے
فلک پہ آج شور ہے یہ کون رشک حور ہے
یہ کس کی ضو ہے آج جو چمک رہے ہیں بام و در
یہ روشنی ہے چاند کی یا میرے دل کا نور ہے
کوئی تو راستہ ملے کہ راز آشکار ہو
قصوروار کون اور کون بے قصور ہے
حیات جاں کی ساعتیں گزر رہی ہیں ہجر میں
اب اشتیاق وصل میں یہ قلب ناصبور ہے
تری نجات تیرے ہی گمان پر ہے منحصر
امید رکھ یقین جان رب بڑا غفور ہے
یہ کس مقام پہ مجھے لے آئی ہے یہ زندگی
نہ قلب میں وہ سوز ہے نہ ذہن کو شعور ہے
تجلیوں سے جل نہ جائے جسم ناتواں مرا
مری نظر کے سامنے جمال کوہ طور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.