Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہے کون آج بزم میں جو جلوہ ہائے‌‌ طور ہے

ثقلین مشتاق

ہے کون آج بزم میں جو جلوہ ہائے‌‌ طور ہے

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    ہے کون آج بزم میں جو جلوہ ہائے‌‌ طور ہے

    فلک پہ آج شور ہے یہ کون رشک حور ہے

    یہ کس کی ضو ہے آج جو چمک رہے ہیں بام و در

    یہ روشنی ہے چاند کی یا میرے دل کا نور ہے

    کوئی تو راستہ ملے کہ راز آشکار ہو

    قصوروار کون اور کون بے قصور ہے

    حیات جاں کی ساعتیں گزر رہی ہیں ہجر میں

    اب اشتیاق وصل میں یہ قلب ناصبور ہے

    تری نجات تیرے ہی گمان پر ہے منحصر

    امید رکھ یقین جان رب بڑا غفور ہے

    یہ کس مقام پہ مجھے لے آئی ہے یہ زندگی

    نہ قلب میں وہ سوز ہے نہ ذہن کو شعور ہے

    تجلیوں سے جل نہ جائے جسم ناتواں مرا

    مری نظر کے سامنے جمال کوہ طور ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے