وفور شوق کا یہ سلسلہ رہے نہ رہے
وفور شوق کا یہ سلسلہ رہے نہ رہے
زیادہ دیر زمیں پر وفا رہے نہ رہے
غزل سناؤں تو حسرت سے سن لیا کیجو
کہ کل تلک ترا نغمہ سرا رہے نہ رہے
ہم ایک بار تجھے خوش لباس دیکھیں گے
پھر اس کے بعد بدن پر عبا رہے نہ رہے
مجھے یوں وعدۂ فردا پہ ٹالنے والے
کسے خبر ہے تو تب تک خدا رہے نہ رہے
ابھی تو ساتھ چلو دشت رائیگاں میں مرے
پھر اس زمیں پہ مرا نقش پا رہے نہ رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.