سوچ یوں پہروں نہ یوں ڈر ڈر کے خانہ خانہ چل
سوچ یوں پہروں نہ یوں ڈر ڈر کے خانہ خانہ چل
چل بساط وقت پر جو چال بے باکانہ چل
خاک مقتل پھر مہک اٹھی دل دیوانہ چل
مست و بے خود زمزمہ پرداز و بے تابانہ چل
تو نے اے چشم فسوں گر اور کیا سوچا ہے اب
بن گیا اک ایک گھر اب تو عقوبت خانہ چل
حبس بے مہری سے اب تو آ چلی ہونٹوں پہ جاں
اے ہوائے التفات یار اب چل یا نہ چل
مصلحت کہتی ہے رکھ آداب محفل کا خیال
دل بضد ہے آج اس محفل میں گستاخانہ چل
حادثے بھی خواہشوں کے ساتھ ہیں محو سفر
اپنے گرد و پیش سے ہو کر نہ یوں بیگانا چل
بن کے اک آندھی نکل گلیوں میں اے آشوب جاں
مثل سرگوشی نہ یوں کاشانہ در کاشانہ چل
آخری بازی ہے یہ ہر شے لگے گی داؤں پر
ہے یہ نقد جاں یہ دل سا گوہر یک دانہ چل
در پئے ایذا رہے گا درد دل خاورؔ یونہی
سر بہ زانو بیٹھ گھر میں یا سر ویرانہ چل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.