رفتہ رفتہ ستارے سبھی بجھ گئے چاند ڈھلنے لگا
رفتہ رفتہ ستارے سبھی بجھ گئے چاند ڈھلنے لگا
رات رخصت ہوئی اور دیا نیند کی سمت چلنے لگا
لوگ ماضی کے مرگھٹ سے چننے لگے سر کٹی وحشتیں
وقت کی کوکھ میں اک نیا سانحہ پھر سے پلنے لگا
منزلوں کا تعین ضروری ہے آغاز سے پیشتر
ورنہ غازہ سفر کا تو بیکار چہرے پہ ملنے لگا
دور افق پر کہیں سرمئی بادلوں کی جھلک دیکھ کر
دھوپ بے کل ہوئی اور صحراؤں کا دم نکلنے لگا
پہلے پہلے تو سمجھا تھا میں زندگی تیرے بن کچھ نہیں
رفتہ رفتہ مگر زخم بھرنے لگے دل سنبھلنے لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.