مشکل سے سمیٹا ہے بکھر جائے گا اک دن
مشکل سے سمیٹا ہے بکھر جائے گا اک دن
دیوانہ ترے ہجر میں مر جائے گا اک دن
ہم کلبۂ احزاں میں ہی رہ جائیں گے بیٹھے
وہ شہر سے ہو کر بھی گزر جائے گا اک دن
یہ وقت جو دریاؤں کی مانند رواں ہے
تم دیکھنا یہ وقت ٹھہر جائے گا اک دن
ڈھونڈھے سے کوئی وجہ جدائی نہ ملے گی
بس تجھ سے یونہی دل مرا بھر جائے گا اک دن
ہم خاک بصد شوق اڑاتے ہیں ابھی تو
وحشت کا یہ دریا بھی اتر جائے گا اک دن
وہ تیرہ شبی ہوگی جہانوں پہ مسلط
سورج بھی نکلتے ہوئے ڈر جائے گا اک دن
بیٹھے ہیں سنبھالے ہوئے ہم سانس کی گٹھری
معلوم ہے یہ رخت سفر جائے گا اک دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.