لوٹ کر میرے یقیں کا حوصلا لے جائے گا
لوٹ کر میرے یقیں کا حوصلا لے جائے گا
یہ نہ تھی امید وہ دامن بچا لے جائے گا
بڑھ گیا طوفان تو ساری طنابیں توڑ کر
سر سے احساسات کا خیمہ اڑا لے جائے گا
بے سبب یادوں کے ساحل ٹوٹ کر گرنے نہ دو
وقت کا سیل رواں اس کو بہا لے جائے گا
یوں ہی گر جلتے رہے راہوں میں سجدوں کے دیے
یہ اجالا بھی کوئی ظلمت زدہ لے جائے گا
ہم سفر جتنے بھی تھے سب ہو گئے پیوند راہ
اب کہاں تک اور مجھ کو راستہ لے جائے گا
ٹوٹتے لمحوں کی میں ہوں ایک مبہم باز گشت
میرے پاس آئے گا جو اپنی صدا لے جائے گا
ہو گئے خوابوں کے ایمنؔ قصر سارے منہدم
اب کوئی طوفان بھی آیا تو کیا لے جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.