کسی سے اپنے تخیل کی داد پانے کو
کسی سے اپنے تخیل کی داد پانے کو
میں لکھ کے دوڑ پڑا ہوں غزل سنانے کو
گھڑی کی سوئیاں رکتی نہیں کسی پل بھی
یہ جاتا وقت تو آتا ہے کاٹ کھانے کو
ہیں خوش تو خوش ہی رہیں اپنی خوش سماعتی پر
جو شور کہتے ہیں چڑیوں کے چہچہانے کو
مجھے تو اب کے مشیران صلح باز رکھیں
میں لڑ پڑوں گا اگر پھر گیا منانے کو
دوبارہ اگنے لگا ہوں میں اپنے اندر سے
نیا کیا ہے محبت نے مجھ پرانے کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.