ازل کے بچھڑے ہوئے پھر سے آ ملے ہم تم
ازل کے بچھڑے ہوئے پھر سے آ ملے ہم تم
کسے بتائیں کہ اب تک کہاں رہے ہم تم
جہاں پہ ہم تھے وہاں برف کا سمندر تھا
کہاں کی آگ تھی وہ جس میں جل گئے ہم تم
یہ موج تازہ نفس کس طرف سے آئی تھی
کہ نیم جاں تھے مگر پھر سے جی اٹھے ہم تم
محبتیں ہوئیں آزاد قید موسم سے
خزاں کی آگ کو گلنار کر گئے ہم تم
یہ کیا مقام ہے آخر کہ ہجر ہے نہ وصال
ملے ہیں ایسے کہ جیسے نہیں ملے ہم تم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.