انجام کہانی کا یہ ہے تا عمر ہمیں ناشاد کیا
انجام کہانی کا یہ ہے تا عمر ہمیں ناشاد کیا
اس بحث سے اب کیا حاصل ہے کس کس نے ہمیں برباد کیا
ہر آنکھ کی بینائی تھے کبھی ہم کار مسیحائی تھے کبھی
اس بستی پر پھر بوجھ بنے جس بستی کو آباد کیا
ہم خواب کبھی تھے گلشن کا امید تھے ہر اک موسم کی
پھر وقت نے ہم کو یوں برتا ہر رشتے سے آزاد کیا
ہم رستے بنایا کرتے تھے چلنا بھی سکھایا کرتے تھے
یہ عشق جو تم اب کرتے ہو ہم جیسوں نے ایجاد کیا
ہم لوگ پرانا قصہ ہیں ہم لوگ پرانی رسمیں ہیں
وہ صید ہیں جس نے اپنی خوشی کچھ یادوں کو صیاد کیا
ناصح نہ بنا ابرکؔ کوئی کب کوئی چارہ ساز ملا
تب زخموں کو آرام آیا جب سے ہے خدا کو یاد کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.