ترے نشے کا لہو میں خمار باقی ہے
ترے نشے کا لہو میں خمار باقی ہے
خزاں رسیدہ شجر پر بہار باقی ہے
گزرنے والے گزر کر چلے گئے کب کے
بس اب تو یاد کی اک رہ گذار باقی ہے
وہ ایک پل کہ میسر ہوئے تھے تم جس میں
حساب عمر میں اس کا شمار باقی ہے
کسی کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا کوئی آنسو
کسی کے ضبط کا بن کر وقار باقی ہے
میں دفن کر نہ سکا جس کو اپنے سینے میں
اس ایک یاد کا دل میں مزار باقی ہے
سکوت دہر میں یہ کس کا شور ہے احسانؔ
یہ کس صدا کی ابھی تک پکار باقی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.