ستم ہی کرتے رہے ہو کوئی کرم تو نہیں
ستم ہی کرتے رہے ہو کوئی کرم تو نہیں
بغور دیکھو مری آنکھ پھر بھی نم تو نہیں
ہماری جھوٹی ہنسی پر نہ جاؤ اے لوگو
ہمیں بھی پوچھ لو کوئی کہ کوئی غم تو نہیں
اب آپ اتنی حقارت سے تو نہ دیکھیں ہمیں
ہمارا وقت برا ہے جناب ہم تو نہیں
کوئی ضروری نہیں اب وہ گفتگو بھی کرے
وہ اپنے پاس بٹھائے ہوئے ہے کم تو نہیں
یہ اور بات وہ ذلت پذیر ہوں کے نہ ہوں
مری نگاہ میں کچھ لوگ محترم تو نہیں
کسی کا ساتھ اگر چھوڑنا پڑے کاشفؔ
تو دھیرے دھیرے مناسب ہے ایک دم تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.