Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یوں نہیں ہے کہ نئے ڈھب سے سنورنا ہے مجھے

باسط پتافی

یوں نہیں ہے کہ نئے ڈھب سے سنورنا ہے مجھے

باسط پتافی

MORE BYباسط پتافی

    یوں نہیں ہے کہ نئے ڈھب سے سنورنا ہے مجھے

    ڈوبتے ڈوبتے اک دم سے ابھرنا ہے مجھے

    پھر کسی اور کی آنکھوں میں ہیں میرے آنسو

    پھر ندامت کے اندھیروں سے گزرنا ہے مجھے

    ایک اک رنگ میں لہرائے تو اپنا آنچل

    اور آنچل کے کناروں سے نکھرنا ہے مجھے

    یہ نہیں مجھ کو خبر کون سا ہے وہ سایہ

    اتنا معلوم ہے اک سائے سے ڈرنا ہے مجھے

    کاف اک حرف ہے تخلیق کی بنیادوں میں

    جانے کس حرف کی آواز سے مرنا ہے مجھے

    میں تو بے وقت کا ٹھہرا ہوا اک آنسو ہوں

    تیری پلکوں کی نزاکت سے اترنا ہے مجھے

    میرے سینے میں مکیں ہے نہ مکاں ہے باسطؔ

    یہ خلا وقت کی آواز سے بھرنا ہے مجھے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے