یوں نہیں ہے کہ نئے ڈھب سے سنورنا ہے مجھے
یوں نہیں ہے کہ نئے ڈھب سے سنورنا ہے مجھے
ڈوبتے ڈوبتے اک دم سے ابھرنا ہے مجھے
پھر کسی اور کی آنکھوں میں ہیں میرے آنسو
پھر ندامت کے اندھیروں سے گزرنا ہے مجھے
ایک اک رنگ میں لہرائے تو اپنا آنچل
اور آنچل کے کناروں سے نکھرنا ہے مجھے
یہ نہیں مجھ کو خبر کون سا ہے وہ سایہ
اتنا معلوم ہے اک سائے سے ڈرنا ہے مجھے
کاف اک حرف ہے تخلیق کی بنیادوں میں
جانے کس حرف کی آواز سے مرنا ہے مجھے
میں تو بے وقت کا ٹھہرا ہوا اک آنسو ہوں
تیری پلکوں کی نزاکت سے اترنا ہے مجھے
میرے سینے میں مکیں ہے نہ مکاں ہے باسطؔ
یہ خلا وقت کی آواز سے بھرنا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.