نہ فکر سدرہ نشین میری نہ رفعت آسمان میری
نہ فکر سدرہ نشین میری نہ رفعت آسمان میری
نہال غم پر مرا بسیرا ہرے شجر تک اڑان میری
صدا کے رستے پہ شہر مفہوم دور سے دور تر لگا ہے
مرا ہر اک لفظ پا بریدہ خلل گرفتہ زبان میری
کہیں تو معدومیوں کی شمعوں میں نیم روشن تھا نام میرا
کہیں پہ محرومیوں میں بھیگی رہی شب بے نشان میری
بس ایک آنسو کے دخل نے منظر وفا کو بدل دیا تھا
بس ایک موج خفی کے آگے خس رواں تھی چٹان میری
یہ آتشیں تیر کس مکاں سے شب مناجات آ لگا ہے
دھواں دھواں ہے کتاب میری لہو لہو ہے زبان میری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.