مری نگاہ میں عکس تمام کس کا ہے
مری نگاہ میں عکس تمام کس کا ہے
یہ انتظار مجھے صبح و شام کس کا ہے
تصورات کی جلتی ہوئی ترائی میں
بچھا ہوا تہہ احساس دام کس کا ہے
کوئی بھی چہرہ شناسا نظر نہیں آتا
میں آ گیا ہوں کہاں یہ مقام کس کا ہے
یہ کس کی شکل مری شکل میں ہے پیوستہ
مرے وجود سے وابستہ نام کس کا ہے
میں اپنے قتل کی خود کر رہا ہوں کیوں سازش
مرے لہو میں نہاں انتقام کس کا ہے
یہ کس کی گونج کی خوشبو رچی ہے ذہنوں میں
کلیم کون ہے ایسا کلام کس کا ہے
اٹھائے بار حیات گذشتہ کاندھے پر
ابھی ابھی جو گیا ہے غلام کس کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.