میں سوچتا ہوں وہی کچھ جو اس صدی کا ہے
میں سوچتا ہوں وہی کچھ جو اس صدی کا ہے
کہ اب تو گہرا بہت زخم آگہی کا ہے
اگر تو شب کی چٹانیں نہیں تراش سکا
تو کیا قصور ستاروں کی روشنی کا ہے
ابھر کے زخم وفا آ گئے ہیں آنکھوں میں
وہ حال شیشۂ دل کی شکستگی کا ہے
اسے میں صبح بہاراں کا نام کیسے دوں
کہ گرد گرد سا چہرہ کلی کلی کا ہے
جلے گا تابؔ کہاں تک ہوا کے ہاتھوں میں
یہ اک چراغ جو سینے میں زندگی کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.