کس وقت بجھی شمع تمنا مرے آگے
کس وقت بجھی شمع تمنا مرے آگے
سورج مرے پیچھے ہے تو سایا مرے آگے
دیکھا تو شناسا نظر آیا نہیں انساں
سوچا تو دل سنگ بھی دھڑکا مرے آگے
اس بزم کو خلوت گہہ انبوہ ہی کہیے
اس بزم میں ہر شخص ہے تنہا مرے آگے
شاید کہ یہیں پر ہے مرے نام کی سولی
آتا ہے بہت دن سے مسیحا مرے آگے
میں سوچ رہا تھا کہ یہ رت کون سی ہوگی
ناگاہ گرا ٹوٹ کے پتا مرے آگے
مصروف سخن رہتا ہوں میں کس سے شب و روز
رہتا ہے برابر کوئی چہرہ مرے آگے
خود بیچ میں حائل ہے مری ذات ہی پیارے
دیکھوں تجھے کیونکر کہ ہے پردہ مرے آگے
حشمیؔ شجر شب کے یہ پھیلے ہوئے سائے
اور وہ ہے کہ اک دھوپ کا ٹکڑا مرے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.