ازل سے قید تری خواہش ابد میں رہے
ازل سے قید تری خواہش ابد میں رہے
ہم اہل عشق کئی زاویوں کی زد میں رہے
جو کہہ رہا ہے تمہیں مجھ سے بڑھ کے چاہے گا
اسے کہو کہ رکے اور اپنی حد میں رہے
تو جس کو دیکھ کے اک بار مسکرا اٹھا
تمام عمر ہم اس نیچ سے حسد میں رہے
مجھ ایسے شوخ کو کیسے جدا کرو گی بھلا
جو عشق بن کے ترے حسن کی سند میں رہے
اگر ہم ایک نہیں ہو سکے تو کیا غم تھا
تو واں پہ خوش رہا ہم پر سکوں لحد میں رہے
یہ گال دیکھ کے چیخے خدا خدا وہ ضعیف
جو ایک عمر وجود خدا کے رد میں رہے
جہاں ادھر سے ادھر ہو مگر اے رونق جاں
تری جبین ہمارے لبوں کی زد میں رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.