Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ازل سے قید تری خواہش ابد میں رہے

عبداللہ علی ہاشمی

ازل سے قید تری خواہش ابد میں رہے

عبداللہ علی ہاشمی

MORE BYعبداللہ علی ہاشمی

    ازل سے قید تری خواہش ابد میں رہے

    ہم اہل عشق کئی زاویوں کی زد میں رہے

    جو کہہ رہا ہے تمہیں مجھ سے بڑھ کے چاہے گا

    اسے کہو کہ رکے اور اپنی حد میں رہے

    تو جس کو دیکھ کے اک بار مسکرا اٹھا

    تمام عمر ہم اس نیچ سے حسد میں رہے

    مجھ ایسے شوخ کو کیسے جدا کرو گی بھلا

    جو عشق بن کے ترے حسن کی سند میں رہے

    اگر ہم ایک نہیں ہو سکے تو کیا غم تھا

    تو واں پہ خوش رہا ہم پر سکوں لحد میں رہے

    یہ گال دیکھ کے چیخے خدا خدا وہ ضعیف

    جو ایک عمر وجود خدا کے رد میں رہے

    جہاں ادھر سے ادھر ہو مگر اے رونق جاں

    تری جبین ہمارے لبوں کی زد میں رہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے