وحشت میں سر عرش بریں تھام لیا ہے
وحشت میں سر عرش بریں تھام لیا ہے
اس عشق سے کیا کہئے کہ کیا کام لیا ہے
حالت پہ مری گل ہی نہیں چاک گریباں
شبنم نے بھی رو رو کے جگر تھام لیا ہے
اے مالک کونین مری آس نہ ٹوٹے
میں نے بھی مصیبت میں ترا نام لیا ہے
برسوں لئے پھرتی رہی تقدیر کی گردش
دم بھر جو کہیں بیٹھ کے آرام لیا ہے
جس وقت بھی کچھ دور سے ساحل نے پکارا
موجوں نے وہیں بڑھ کے مجھے تھام لیا ہے
ہر ٹوٹے ہوئے پر میں ہے پیغام رہائی
ہندیؔ نے سبق اور تہ دام لیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.