Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وحشت میں سر عرش بریں تھام لیا ہے

ہندی گورکھپوری

وحشت میں سر عرش بریں تھام لیا ہے

ہندی گورکھپوری

MORE BYہندی گورکھپوری

    وحشت میں سر عرش بریں تھام لیا ہے

    اس عشق سے کیا کہئے کہ کیا کام لیا ہے

    حالت پہ مری گل ہی نہیں چاک گریباں

    شبنم نے بھی رو رو کے جگر تھام لیا ہے

    اے مالک کونین مری آس نہ ٹوٹے

    میں نے بھی مصیبت میں ترا نام لیا ہے

    برسوں لئے پھرتی رہی تقدیر کی گردش

    دم بھر جو کہیں بیٹھ کے آرام لیا ہے

    جس وقت بھی کچھ دور سے ساحل نے پکارا

    موجوں نے وہیں بڑھ کے مجھے تھام لیا ہے

    ہر ٹوٹے ہوئے پر میں ہے پیغام رہائی

    ہندیؔ نے سبق اور تہ دام لیا ہے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے