اس شوخ کے گالوں میں شفق جوں نکھر آئی
اس شوخ کے گالوں میں شفق جوں نکھر آئی
اک سرخی مرے لب پہ اچانک ابھر آئی
وہ آنکھ مسافر کے لیے راہ ہوئی ہے
اور راہ سے اڑتی ہوئی بس دھول گھر آئی
میں ابر فروزاں کی حفاظت میں ہوا قید
وہ حور ملاقات کے خیمے سے ڈر آئی
صندوق امانت سے نکالیں تری یادیں
سینہ تو مرا ہلکا ہوا آنکھ بھر آئی
افلاک کی آنکھوں میں رقابت ہوئی پیدا
دل پھول پہ تتلی جو مچلتی نظر آئی
ہارون بھی پھر وحشت و حیرت میں ہوئے گم
آواز جو گوسالے کے اندر سے بر آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.