کل ذرا جلوہ نما جو وہ رخ گل گوں ہوا
کل ذرا جلوہ نما جو وہ رخ گل گوں ہوا
ایک لیلیٰ کی طلب میں ہر کوئی مجنوں ہوا
وہ متاع حسن طوبیٰ وہ زر ناب جمال
جس کے باعث اک بھکاری وقت کا قاروں ہوا
پھول تیری طلعتوں کا بن گیا حلقہ بگوش
سرو گلشن بھی نثار قامت موزوں ہوا
داغ دل کا کیا گلہ یہ عشق کی سوغات ہے
ہجر کا غم راس یوں آیا کہ روز افزوں ہوا
گونجتی ہے مجھ میں وحشت کی صدائے بازگشت
اب کہ اس وارفتگی میں حال اپنا یوں ہوا
مجھ کو جب خود نامرادی کا نہیں کوئی ملال
پھر مری روداد سن کر آپ کو دکھ کیوں ہوا
تیری حکمت آشنائی میں وہ کیا تاثیر تھی
میں کہ ناکارہ ہوا کرتا تھا افلاطوں ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.