Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی نہ ہوتا تھا دل پر اثر اداسی کا

فیضان عمر

کبھی نہ ہوتا تھا دل پر اثر اداسی کا

فیضان عمر

MORE BYفیضان عمر

    کبھی نہ ہوتا تھا دل پر اثر اداسی کا

    پر اب کیا ہے اسی دل کو گھر اداسی کا

    غزل ہوئی ہے ہمیشہ اداس رہنے پر

    براہ راست سخن ہے ہنر اداسی کا

    کبھی سکوت کبھی خوف اور کبھی وحشت

    اس اضطراب میں گزرا سفر اداسی کا

    دوائی جیسے ہر اک درد کا علاج نہیں

    وفا علاج نہیں ویسے ہر اداسی کا

    بڑا سوال تھا دل میں قیام کس کا ہے

    مرا جواب رہا مختصر اداسی کا

    شدید غم میں اداسی ہی ساتھ تھی میرے

    یہ ایک قرض ہے فیضانؔ پر اداسی کا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے