کبھی نہ ہوتا تھا دل پر اثر اداسی کا
کبھی نہ ہوتا تھا دل پر اثر اداسی کا
پر اب کیا ہے اسی دل کو گھر اداسی کا
غزل ہوئی ہے ہمیشہ اداس رہنے پر
براہ راست سخن ہے ہنر اداسی کا
کبھی سکوت کبھی خوف اور کبھی وحشت
اس اضطراب میں گزرا سفر اداسی کا
دوائی جیسے ہر اک درد کا علاج نہیں
وفا علاج نہیں ویسے ہر اداسی کا
بڑا سوال تھا دل میں قیام کس کا ہے
مرا جواب رہا مختصر اداسی کا
شدید غم میں اداسی ہی ساتھ تھی میرے
یہ ایک قرض ہے فیضانؔ پر اداسی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.