اک جہاں ہے پس مژگاں بھی کہاں تک دیکھوں
اک جہاں ہے پس مژگاں بھی کہاں تک دیکھوں
خواب ہی خواب ترے ہیں میں جہاں تک دیکھوں
اب تو آنکھیں مری بے نور ہوئی جاتی ہیں
آنے والے میں تری راہ کہاں تک دیکھوں
تو نے محسوس نہ کی میرے بدن کی وحشت
میں تو اس روح پہ زخموں کے نشاں تک دیکھوں
ایک خواہش ہے کہ سورج کی طرح چمکوں اور
جس جگہ ہے ترا سایہ میں وہاں تک دیکھوں
چاہتا ہوں کہ ترے حسن کو تنہائی میں
کھول کر چشم یقیں اپنے گماں تک دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.