Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہوا ظالم سہی دل میں اترنا چاہتی ہے اب

جاوید ہمایوں

ہوا ظالم سہی دل میں اترنا چاہتی ہے اب

جاوید ہمایوں

MORE BYجاوید ہمایوں

    ہوا ظالم سہی دل میں اترنا چاہتی ہے اب

    بدن کے چپے چپے سے گزرنا چاہتی ہے اب

    بہت اچھا کہ سارے آئنے ہی ہو گئے ریزے

    مرے اندر کی عیاری سنوارنا چاہتی ہے اب

    سمندر جذب کر لینا بدن کو یخ زدہ کرنا

    خلا سے فیل پا آتش بکھرنا چاہتی ہے اب

    گناہوں نے مجھے بخشی ہے شان بے نیازی پر

    گنہ گاری مجھے معتوب کرنا چاہتی ہے اب

    سمندر پر برس کر ہی بہت نازاں جو بارش تھی

    مگر وہ خواب گاہوں میں اترنا چاہتی ہے اب

    مجھے وحشت زدہ کرتی ہے میرے خواب میں آ کر

    وہی تعبیر مجھ میں کیوں بکھرنا چاہتی ہے اب

    ہواؤں کا بدن بھی ٹوٹتا ہے کوہساروں سے

    سنا ہے دشت و صحرا میں اترنا چاہتی ہے اب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے