ہوا ظالم سہی دل میں اترنا چاہتی ہے اب
ہوا ظالم سہی دل میں اترنا چاہتی ہے اب
بدن کے چپے چپے سے گزرنا چاہتی ہے اب
بہت اچھا کہ سارے آئنے ہی ہو گئے ریزے
مرے اندر کی عیاری سنوارنا چاہتی ہے اب
سمندر جذب کر لینا بدن کو یخ زدہ کرنا
خلا سے فیل پا آتش بکھرنا چاہتی ہے اب
گناہوں نے مجھے بخشی ہے شان بے نیازی پر
گنہ گاری مجھے معتوب کرنا چاہتی ہے اب
سمندر پر برس کر ہی بہت نازاں جو بارش تھی
مگر وہ خواب گاہوں میں اترنا چاہتی ہے اب
مجھے وحشت زدہ کرتی ہے میرے خواب میں آ کر
وہی تعبیر مجھ میں کیوں بکھرنا چاہتی ہے اب
ہواؤں کا بدن بھی ٹوٹتا ہے کوہساروں سے
سنا ہے دشت و صحرا میں اترنا چاہتی ہے اب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.