ہاتھ پر دل تبھی نکالا ہے
ہاتھ پر دل تبھی نکالا ہے
کوئی مجھ سے بچھڑنے والا ہے
ورنہ وحشت نے مار دینا تھا
شکر اشکوں کو کچھ نکالا ہے
میں ہوں مزدور اس لیے تیرا
عشق بچوں کی طرح پالا ہے
اب خدا پر نصیب کی بازی
دل کا سکہ تھا وہ اچھالا ہے
تجھ سے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے
میں نے خود کو کہاں سنبھالا ہے
چاند کا نام بن گیا ہے مگر
رات میں سب ترا اجالا ہے
میں تو گمنام ہوں مرے اخترؔ
تیرا چہرہ مرا حوالہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.