دل میں ان کی آرزو ہو سر میں سودا بھی تو ہو
دل میں ان کی آرزو ہو سر میں سودا بھی تو ہو
سامنے آ جائیں وہ ان کی تمنا بھی تو ہو
ان کا غم ان کی خوشی ان کی نگاہیں ان کا دل
میرے مالک عشق میں کوئی ہمارا بھی تو ہو
میں بھی سر کو پھوڑ ڈالوں اپنا اے دست جنوں
یہ مری وحشت مگر ان کو گوارا بھی تو ہو
عشق بن جائے ز سر تا پا نگہ اے ہم نفس
حسن خود بیں کو مگر ذوق تماشا بھی تو ہو
یہ امید و یاس کی پیہم کشائش تا بہ کے
ہم تو مر جائیں مگر ان کا اشارہ بھی تو ہو
غنچہ و گل میں مہ و انجم میں جلوہ گر ہے کون
آپ چھپیے شوق سے چھپنے کو پردا بھی تو ہو
کون سی ہے موج جو موج لب ساحل نہیں
بحر الفت کا کہیں ہندیؔ کنارہ بھی تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.