دل خوف میں ہے آنکھوں سے وحشت نہیں جاتی
دل خوف میں ہے آنکھوں سے وحشت نہیں جاتی
کیا کیجئے گا میری اذیت نہیں جاتی
ہاں وقت لگا دیتا ہے ہر زخم پہ مرہم
پر دل سے کبھی پہلی محبت نہیں جاتی
افسوس کہ ڈھل جائے گا حسن ان کا کسی دن
جن لڑکیوں کی آج نزاکت نہیں جاتی
رہتے ہیں بڑے پیار سے جنگل میں پرندے
اور شہر کی دیواروں سے نفرت نہیں جاتی
آسان نہیں ہوتا ہے عادات بدلنا
عادات بدل سکتی ہیں فطرت نہیں جاتی
میری بھی پریشانیاں فرصت میں کبھی سن
اک تو یہ مری جاں تری عجلت نہیں جاتی
بے انت حسینائیں ہیں موجود ولیکن
حسامؔ مرے دل سے وہ عورت نہیں جاتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.