Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل بھی معمور ہے کیا کام نبھانے کے لیے

اقبال حیات

دل بھی معمور ہے کیا کام نبھانے کے لیے

اقبال حیات

MORE BYاقبال حیات

    دل بھی معمور ہے کیا کام نبھانے کے لیے

    زخم کھانے کے لیے رنج اٹھانے کے لیے

    نئے انداز کی وحشت ہے کہ اب دیوانے

    دشت اٹھا لاتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے

    تو نے کیا پھولوں کو دیکھا ہے کہ اب پھول تجھے

    دیکھتے ہیں ترا انداز چرانے کے لیے

    کیا ہوائیں ہیں کہ جگنو کو بجھا پاتی نہیں

    اور بیتاب ہیں سورج کو بجھانے کے لیے

    شعر کی شکل میں جذبوں کو زباں بخشی ہے

    ہم نے لکھا ہی نہیں نام کمانے کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے