دل بھی معمور ہے کیا کام نبھانے کے لیے
دل بھی معمور ہے کیا کام نبھانے کے لیے
زخم کھانے کے لیے رنج اٹھانے کے لیے
نئے انداز کی وحشت ہے کہ اب دیوانے
دشت اٹھا لاتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے
تو نے کیا پھولوں کو دیکھا ہے کہ اب پھول تجھے
دیکھتے ہیں ترا انداز چرانے کے لیے
کیا ہوائیں ہیں کہ جگنو کو بجھا پاتی نہیں
اور بیتاب ہیں سورج کو بجھانے کے لیے
شعر کی شکل میں جذبوں کو زباں بخشی ہے
ہم نے لکھا ہی نہیں نام کمانے کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.