ابھی تک یاد ہے مجھ کو شب غم ناک ماتم کی
ابھی تک یاد ہے مجھ کو شب غم ناک ماتم کی
عجب تھی شور انگیزی فضا میں آتش نم کی
عزیز از جان تھا صندوقچے بھی لے گیا ظالم
قبائیں کیسی کیسی اس میں تھیں کمخواب و ریشم کی
ہمارے شہر جاں میں تھا نشاط انگیز موسم اک
در و دیوار پر اگنے لگی ہیں وحشتیں غم کی
میں اپنی خود فروشی کی شرائط پر رہا قائم
خریدار وفا کے سامنے قیمت نہیں کم کی
درختوں کی قطاریں شہر میں آرام کرتی ہیں
چمکتی ہے مگر ان پر بھی اب تلوار موسم کی
فضا کی تیرگی سے دل فسردہ تھا ہوا کچھ یوں
بدن کے ہر علاقے میں کرن مہتاب کی چمکی
لہو کے رنگ و گل سے میں نے اک بستی بنائی ہے
بدلتی ہے ہر اک لمحہ مگر تصویر عالم کی
تمہاری چشم آہو نے ہمیں کیسے کیا قیدی
سبیلیں ڈھونڈنے میں ہم نے کوتاہی کہاں کم کی
مرے کشکول کی دنیا ذرا سیال ہو جائے
میسر ہو مجھے صحرا نشینی یا نظر جم کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.