یہ فکر چھوڑ کہ کیا کیا فسانہ بنتا ہے
یہ فکر چھوڑ کہ کیا کیا فسانہ بنتا ہے
تو مسکرا کہ ترا مسکرانا بنتا ہے
جمی ہیں اوس کی بوندیں جو بند کھڑکی پر
تو انگلیوں سے وہاں دل بنانا بنتا ہے
تم ایک شام مرے نام کر ہی سکتی ہو
وفا کا اتنا تو اب محنتانہ بنتا ہے
شراب چھوڑ دی ہم نے تمہارے کہنے پر
تمہارا چائے پہ اب تو بلانا بنتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.