ترے خیال کے حجرے میں آ کے بیٹھ گیا
ترے خیال کے حجرے میں آ کے بیٹھ گیا
فقیر عشق مصلیٰ بچھا کے بیٹھ گیا
ہنسی خوشی اسے رخصت تو کر دیا لیکن
درون جسم کوئی تھرتھرا کے بیٹھ گیا
مشاعرے میں غزل دیر تک مہکتی رہی
میں تیرا نام فقط گنگنا کے بیٹھ گیا
بلندیاں اسے جھک کر سلام کرنے لگیں
ترے دیار میں جو سر جھکا کے بیٹھ گیا
اداس ہونے لگی تھی مری یہ تنہائی
میں تیری یاد کے پہلو میں جا کے بیٹھ گیا
ادا کرے نہ کرے وہ وفا کی رسم مگر
مری طرف سے میں سب کچھ لٹا کے بیٹھ گیا
کبھی کبھار نیا زخم بھی لگا دیتا
عجیب دوست ہے مجھ کو بھلا کے بیٹھ گیا
بہت غرور تھا اس شہر کے ستاروں کو
چراغ شام سے میں بھی جلا کے بیٹھ گیا
تری گلی میں بھی تیرا نشہ تھا یوں ساگرؔ
گزر ہوا جو کبھی لڑکھڑا کے بیٹھ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.