Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترے خیال کے حجرے میں آ کے بیٹھ گیا

توفیق ساگر

ترے خیال کے حجرے میں آ کے بیٹھ گیا

توفیق ساگر

MORE BYتوفیق ساگر

    ترے خیال کے حجرے میں آ کے بیٹھ گیا

    فقیر عشق مصلیٰ بچھا کے بیٹھ گیا

    ہنسی خوشی اسے رخصت تو کر دیا لیکن

    درون جسم کوئی تھرتھرا کے بیٹھ گیا

    مشاعرے میں غزل دیر تک مہکتی رہی

    میں تیرا نام فقط گنگنا کے بیٹھ گیا

    بلندیاں اسے جھک کر سلام کرنے لگیں

    ترے دیار میں جو سر جھکا کے بیٹھ گیا

    اداس ہونے لگی تھی مری یہ تنہائی

    میں تیری یاد کے پہلو میں جا کے بیٹھ گیا

    ادا کرے نہ کرے وہ وفا کی رسم مگر

    مری طرف سے میں سب کچھ لٹا کے بیٹھ گیا

    کبھی کبھار نیا زخم بھی لگا دیتا

    عجیب دوست ہے مجھ کو بھلا کے بیٹھ گیا

    بہت غرور تھا اس شہر کے ستاروں کو

    چراغ شام سے میں بھی جلا کے بیٹھ گیا

    تری گلی میں بھی تیرا نشہ تھا یوں ساگرؔ

    گزر ہوا جو کبھی لڑکھڑا کے بیٹھ گیا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے