سوکھی ہوئی زمیں کو کبھی تر نہ کر سکا
سوکھی ہوئی زمیں کو کبھی تر نہ کر سکا
یہ کام آج تک وہ سمندر نہ کر سکا
سر ہو گئے خلوص سے کتنے ہی معرکے
اخلاق نے جو کر دیا خنجر نہ کر سکا
وہ حوصلے کہ آگے ہی بڑھتے گئے قدم
سنتے ہیں یہ کمال سکندر نہ کر سکا
میں بے ہنر تھا پھر بھی کنارے پہنچ گیا
دریا اگرچہ پار شناور نہ کر سکا
اعجازؔ اس میں رنگ محبت کہیں نہیں
پتھر کے اس مکان کو وہ گھر نہ کر سکا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.