Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں

اطیب انور ساحل

شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں

اطیب انور ساحل

MORE BYاطیب انور ساحل

    شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں

    کس کو چاہا تھا یہاں کس کا گلہ یاد نہیں

    بات کرنے کو ترستے ہیں مسیحا میرے

    زخم تو یاد ہیں زخموں کی دوا یاد نہیں

    ہم سے پوچھے کوئی دنیا کی ملامت کا عذاب

    لوگ کیا کہتے ہیں اب بہر خدا یاد نہیں

    ہم نے دنیا کے حوادث کو جیا ہے ایسے

    اب تو مرنے کی بھی ہم کو تو ادا یاد نہیں

    اتنے صدمے ہیں کہ اب ہوش نہیں ہے اپنا

    ہم نے کیا کھویا تھا کیا ہم کو ملا یاد نہیں

    لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بڑی رنگیں ہے میاں

    ہم کو تو خاک کے ذروں کے سوا یاد نہیں

    جس کی خاطر میں زمانے سے لڑا تھا تنہا

    آج دیکھا تو اسے میرا پتا یاد نہیں

    اب تو ہر ہاتھ میں پتھر ہی نظر آتا ہے

    کس نے دی تھی ہمیں پھولوں کی قبا یاد نہیں

    لوگ کہتے ہیں کہ ساحلؔ ترا عالم کیا ہے

    بے خودی ایسی ہے خود اپنا پتا یاد نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے