شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں
شہر بے مہر میں اب رسم وفا یاد نہیں
کس کو چاہا تھا یہاں کس کا گلہ یاد نہیں
بات کرنے کو ترستے ہیں مسیحا میرے
زخم تو یاد ہیں زخموں کی دوا یاد نہیں
ہم سے پوچھے کوئی دنیا کی ملامت کا عذاب
لوگ کیا کہتے ہیں اب بہر خدا یاد نہیں
ہم نے دنیا کے حوادث کو جیا ہے ایسے
اب تو مرنے کی بھی ہم کو تو ادا یاد نہیں
اتنے صدمے ہیں کہ اب ہوش نہیں ہے اپنا
ہم نے کیا کھویا تھا کیا ہم کو ملا یاد نہیں
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بڑی رنگیں ہے میاں
ہم کو تو خاک کے ذروں کے سوا یاد نہیں
جس کی خاطر میں زمانے سے لڑا تھا تنہا
آج دیکھا تو اسے میرا پتا یاد نہیں
اب تو ہر ہاتھ میں پتھر ہی نظر آتا ہے
کس نے دی تھی ہمیں پھولوں کی قبا یاد نہیں
لوگ کہتے ہیں کہ ساحلؔ ترا عالم کیا ہے
بے خودی ایسی ہے خود اپنا پتا یاد نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.