شب ہجراں فلک پر جب ستارے جگمگاتے ہیں
شب ہجراں فلک پر جب ستارے جگمگاتے ہیں
تو مجھ کو یہ گماں ہوتا ہے وہ تشریف لاتے ہیں
مری بربادیوں پر ساری دنیا مسکراتی ہے
اکیلے آپ آخر کس لیے آنسو بہاتے ہیں
ہمارا حوصلہ تو دیکھ اے برق ستم پیشہ
نشیمن پھر اسی اجڑے گلستاں میں بناتے ہیں
قریب آ کر جو ہو جاتے ہیں اوجھل میری نظروں سے
وہ فرقت کا الم سہنا مجھے اکثر سکھاتے ہیں
وہ اپنی گفتگو کو خوب صورت مشغلہ کہہ کر
کسی پر طنز کرتے ہیں کسی کا دل دکھاتے ہیں
ہم اپنے محسنوں کو بھول جائیں یہ نہیں ممکن
مگر اپنا کرم اپنی سخاوت بھول جاتے ہیں
ہمیشہ خیریت ہم پوچھ لیتے ہیں عزیزوں کی
مگر روداد غم اپنی کہاں ان کو سناتے ہیں
وفاداری ہوئی شرمندۂ تعبیر کب ان سے
وفاؤں کے ترانے یوں تو اکثر گنگناتے ہیں
ہم ان کی دید کی حسرت لیے بیٹھے تو ہیں کاوشؔ
وہ دیکھیں کب حریم ناز کے پردے اٹھاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.