پھول کلیوں سے یہ سرگوشیاں کرتے ہوں گے
پھول کلیوں سے یہ سرگوشیاں کرتے ہوں گے
جب وہ آ جائیں گے ہر بزم میں چرچے ہوں گے
ہم کو پابند وفا کر کے ہمیں بھول گئے
اب ہر اک شخص سے وہ پیار سے ملتے ہوں گے
ایک آہٹ پہ گماں آنے کا ہوتا ہوگا
ان کی یادوں میں کئی ناگ بھی ڈستے ہوں گے
سوچتے ہوں گے مٹا ڈالا مری ہستی کو
جب وہ اٹھلا کے کسی گل کو مسلتے ہوں گے
اب بھی سانسوں میں مری سانس مہکتی ہوگی
اور نیندوں میں مرے خواب مچلتے ہوں گے
آ گئے چل کے تری بزم سے میکشؔ لیکن
اب بھی رندوں میں وہی جام مچلتے ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.