مجھ کو اپنا لیجئے میرے ابھی بن جائیے
مجھ کو اپنا لیجئے میرے ابھی بن جائیے
ورنہ خود سے دور کیجے اجنبی بن جائیے
چند لمحوں کے لیے ملنا کوئی ملنا نہیں
اس طرح ملیے کہ جزو زندگی بن جائیے
جس کو مدھم کر نہ پائے گردش لیل و نہار
صفحۂ ہستی پہ وہ حرف جلی بن جائیے
چھوڑ کر احباب کے ذہنوں میں یادوں کے نقوش
جو کبھی پوری نہ ہو ایسی کمی بن جائیے
آپ پر موقوف ہے بن جائیے وجہ قرار
یا اداسی رنج و غم اور بے کلی بن جائیے
پاس آئین وفا رکھ کر بھی کچھ ملتا نہیں
گر زمانہ بے وفا ہے آپ بھی بن جائیے
شعر پڑھیے بحر سے خارج سر بزم سخن
اور پھر استاد فن شاعری بن جائیے
بن نہ پائے آپ اظہرؔ ان کے ہونٹوں کی ہنسی
چھوڑ کر دنیا ان آنکھوں کی نمی بن جائیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.